صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۳ - نبی کریم کی سادگی اور صدقہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کی حدیث: سفید خچر، ہتھیار اور صدقہ
صحیح بخاری : ۲۸۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۷۳
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ : مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ ، وَسِلَاحَهُ ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً .
عمرو بن حارث روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے بعد) سوا اپنے سفید خچر کے، اپنے ہتھیار اور اس زمین کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کر دی تھی اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور مال کے معاملے میں آپ کا پاکیزہ طریقہ ہے۔ حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے بعد اپنے سفید خچر، اپنے ہتھیار، اور ایک زمین کے سوا کچھ نہیں چھوڑا، اور وہ زمین بھی آپ نے صدقہ کر دی تھی۔ روایت میں مال کی لمبی فہرست نہیں، بلکہ بہت مختصر چیزوں کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کی حدیث تلاش کرنے والے اس روایت سے یہ بات سمجھتے ہیں کہ آپ کی زندگی مال جمع کرنے والی زندگی نہیں تھی۔ اس حدیث میں خاص طور پر سفید خچر، ہتھیار اور صدقہ کی ہوئی زمین کا ذکر ہے، اس لیے شرح بھی اسی دائرے میں رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی مال زیادہ نہیں چھوڑا۔
- روایت میں صدقہ کی ہوئی زمین کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔
- یہ حدیث سادگی اور مال سے بے رغبتی کا واضح پہلو دکھاتی ہے۔
