صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۲ - دنیا کی بلندی اور عاجزی
عضباء اونٹنی کی حدیث: دنیا میں بلندی ہمیشہ نہیں رہتی
صحیح بخاری : ۲۸۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۷۲
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لَا تُسْبَقُ ، قَالَ حُمَيْدٌ : " أَوْ لَا تَكَادُ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى عَرَفَهُ ، فَقَالَ : حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ " ، طَوَّلَهُ مُوسَى ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے (کبھی کبھی) اسے وہ گراتا بھی ہے۔موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے، حماد نے ثابت سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۲ کا خلاصہ
یہ حدیث عضباء اونٹنی اور دنیا کی بلندی کے بارے میں ایک گہرا مگر آسان سبق دیتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ وہ عموماً سب سے آگے رہتی تھی یا قریب تھا کہ اسے کوئی پیچھے نہ چھوڑ سکے۔ پھر ایک دیہاتی نوجوان قوی اونٹ پر آیا اور اس کا اونٹ عضباء سے آگے نکل گیا۔ مسلمانوں کو یہ بات بھاری لگی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ پر حق ہے کہ دنیا کی جو چیز بھی بلند ہوتی ہے، وہ اسے نیچے بھی کرتا ہے۔ اس حدیث میں اصل بات عضباء کی دوڑ نہیں بلکہ دنیا کی بلندی پر فخر نہ کرنے کا سبق ہے۔ جو چیز آج اوپر ہے، وہ ہمیشہ اسی حال پر نہیں رہتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی کسی برتری کو ہمیشہ کی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
- مسلمانوں کو عضباء کے پیچھے رہ جانے پر رنج ہوا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درست بات سمجھائی۔
- روایت عاجزی اور حقیقت پسندی کا سبق دیتی ہے۔
