صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۷ - بحری جہاد اور ام حرام

بحری جہاد کی حدیث: ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۷۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ :سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقَالَتْ : لِمَ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ فَضَحِكَ ، فَقَالَتْ لَهُ : مِثْلَ أَوْ مِمَّ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهَا : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، وَلَسْتِ مِنَ الْآخِرِينَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : فَتَزَوَّجَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ مَعَ بِنْتِ قَرَظَةَ فَلَمَّا ، قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَوَقَصَتْ بِهَا ، فَسَقَطَتْ عَنْهَا فَمَاتَتْ .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اٹھے تو) مسکرا رہے تھے۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال (دنیا یا آخرت میں) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے اور (اٹھے) تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے پھر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہو گی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے۔انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے (ام حرام نے) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لیا اور بنت قرظ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس سواری سے گر گئیں اور (اسی میں) ان کی وفات ہوئی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع بحری جہاد اور ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے۔ روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام کے پاس تشریف لے گئے، وہاں آرام فرمایا، پھر اٹھے تو مسکرا رہے تھے۔ پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں سبز سمندر پر سوار ہوں گے، اور ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں جیسی ہے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے دعا کی درخواست کی کہ اللہ انہیں بھی ان میں کر دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ یہی بات ہوئی، اور آپ نے فرمایا کہ تم پہلے لوگوں میں سے ہو گی، بعد والوں میں سے نہیں۔ روایت کے آخر میں ان کے سمندری سفر اور واپسی پر سواری سے گر کر وفات کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے کچھ لوگوں کے سمندری سفر کا ذکر فرمایا۔
  • ام حرام رضی اللہ عنہا نے نیک کام میں شمولیت کی دعا چاہی۔
  • روایت میں ان کے پہلے لشکر میں شامل ہونے کا بیان آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں