صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۸ - سمندر میں اللہ کے راستے نکلنا
ام حرام رضی اللہ عنہا کی حدیث: سمندری سفر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۲۸۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۷۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ :سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقَالَتْ : لِمَ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ فَضَحِكَ ، فَقَالَتْ لَهُ : مِثْلَ أَوْ مِمَّ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهَا : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، وَلَسْتِ مِنَ الْآخِرِينَ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : فَتَزَوَّجَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ مَعَ بِنْتِ قَرَظَةَ فَلَمَّا ، قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَوَقَصَتْ بِهَا ، فَسَقَطَتْ عَنْهَا فَمَاتَتْ .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اٹھے تو) مسکرا رہے تھے۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال (دنیا یا آخرت میں) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے اور (اٹھے) تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے پھر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہو گی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے۔انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے (ام حرام نے) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لیا اور بنت قرظ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس سواری سے گر گئیں اور (اسی میں) ان کی وفات ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۸ کا خلاصہ
یہ روایت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے اسی واقعے کو بیان کرتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو اللہ کے راستے سمندر پر سوار ہوتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، تو ام حرام رضی اللہ عنہا نے وجہ پوچھی۔ آپ نے بتایا کہ میری امت کے لوگ سبز سمندر پر سوار ہوں گے، اور ان کی مثال تختوں پر بیٹھے بادشاہوں کی طرح ہے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے دعا کی درخواست کی، تو آپ نے دعا فرمائی۔ دوبارہ سوال پر آپ نے فرمایا کہ تم پہلے لوگوں میں سے ہو گی، بعد والوں میں سے نہیں۔ پھر روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا، سمندر کا سفر کیا، اور واپسی پر سواری سے گر کر ان کی وفات ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ام حرام رضی اللہ عنہا نے اللہ کے راستے نکلنے والوں میں شامل ہونے کی دعا چاہی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔
- روایت میں پہلے لشکر میں ان کی شمولیت کا واضح ذکر ہے۔
