صحیح بخاری حدیث ۲۹۰۳ - غزوہ احد میں زخم کا علاج
غزوہ احد میں نبی صلى الله عليه وسلم کے زخم کا علاج اور اہل بیت کی خدمت
صحیح بخاری : ۲۹۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۰۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : " لَمَّا كُسِرَتْ بَيْضَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ فِي الْمِجَنِّ ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُهُ ، فَلَمَّا رَأَتِ الدَّمَ يَزِيدُ عَلَى الْمَاءِ كَثْرَةً عَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ ، فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا عَلَى جُرْحِهِ فَرَقَأَ الدَّمُ " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
جب احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر توڑا گیا اور چہرہ مبارک خون آلود ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت شہید ہو گئے تو علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں بھربھر کر پانی باربار لا رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا زخم کو دھو رہی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ خون پانی سے اور زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا، جس سے خون آنا بند ہو گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ احد کے ایک دردناک مگر سبق آموز واقعے کو بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سر مبارک پر خود ٹوٹا، چہرہ خون آلود ہوا اور آگے کے دانت زخمی ہوئے۔ ایسے وقت میں علی رضی اللہ عنہ پانی لا رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا زخم دھو رہی تھیں۔ جب پانی سے خون زیادہ بہنے لگا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی جلا کر اس کی راکھ زخم پر لگائی، جس سے خون رک گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع زخم کا علاج اور خدمت ہے۔ اس میں غزوہ احد کی حدیث، نبی صلى الله عليه وسلم کا زخم، فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت اور علی رضی اللہ عنہ کا تعاون صاف طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مشکل گھڑی میں گھبراہٹ کے بجائے حکمت، خدمت اور فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں اہل خانہ اور ساتھیوں کی خدمت بڑی اہم ہوتی ہے۔
- زخم یا تکلیف کی صورت میں مناسب تدبیر اختیار کرنا درست ہے۔
- فاطمہؓ اور علیؓ کی خدمت سے محبت اور عملی تعاون کا سبق ملتا ہے۔
- غزوہ احد میں نبی صلى الله عليه وسلم کو پہنچنے والی تکلیف ایمان والوں کے لیے غور کا مقام ہے۔
