صحیح بخاری حدیث ۲۹۲۶ - قیامت کی نشانی اور پتھر کا بولنا

قیامت کی نشانی: یہودی کے پیچھے پتھر کا بولنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۲۶

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنه ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ حَتَّى ، يَقُولَ : الْحَجَرُ وَرَاءَهُ الْيَهُودِيُّ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک یہودی سے تمہاری جنگ نہ ہو لے گی اور وہ پتھر بھی اس وقت (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہو گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کر ڈالو۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۹۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں قیامت کی ایک نشانی بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مسلمانوں کی یہودیوں سے جنگ ہو، اور وہ پتھر بھی بولے گا جس کے پیچھے یہودی چھپا ہو گا۔ یہ حدیث آخری زمانے سے متعلق ایک خبر ہے، عام روزمرہ زندگی کے لیے ذاتی دشمنی یا ظلم کا اجازت نامہ نہیں۔ علمائے کرام کے مطابق ایسی احادیث کو ان کے خاص باب، یعنی فتنوں اور قیامت کی نشانیوں، کے اندر سمجھا جاتا ہے۔ اس میں مسلمان کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ آخرت کو یاد رکھا جائے، غیبی خبروں پر ایمان رکھا جائے، اور دین کو جذبات کے بجائے صحیح علم سے سمجھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت قیامت سے پہلے کے ایک خاص واقعے کو بیان کرتی ہے۔
  • قیامت کی نشانیاں انسان کو آخرت کی تیاری یاد دلاتی ہیں۔
  • ایسی احادیث کو سیاق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
  • دینی متن کو جذباتی نعرے کے بجائے علم اور احتیاط سے پڑھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں