صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۷ - قیامت سے پہلے جنگ کی خبر
قیامت کی نشانی: ترکوں سے جنگ کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ وَحَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الْأَعْيُنِ حُمْرَ الْوُجُوهِ ذُلْفَ الْأُنُوفِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک نہیں قائم ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہ کر لو جن کے جوتے بال کے ہوں اور جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قیامت سے پہلے پیش آنے والی ایک خبر بیان فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لیں جن کے جوتے بال کے ہوں گے، اور ترکوں سے جنگ نہ ہو جائے۔ حدیث میں ان کی ظاہری پہچان بھی بیان ہوئی: چھوٹی آنکھیں، سرخ چہرے، چھوٹی اور چپٹی ناک، اور چہرے تہ بہ تہ ڈھالوں جیسے۔ اس حدیث کا موضوع قیامت کی نشانیاں، ترکوں سے جنگ کی حدیث اور آخر زمانہ کی خبریں ہے۔ یہاں اصل بات غیب کی وہ خبر ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم نے بیان فرمائی۔ اس سے عام لوگوں کے بارے میں اپنی طرف سے فیصلے نکالنا درست نہیں، کیونکہ حدیث نے ایک خاص واقعہ کی خبر دی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قیامت سے پہلے پیش آنے والی بعض خبریں بیان فرمائیں۔
- حدیث میں ایک قوم کی ظاہری پہچان الفاظ کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔
- ایسی روایات کو اپنی رائے سے آج کے لوگوں پر چسپاں نہیں کرنا چاہیے۔
