صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۸ - منصب سے بے رغبتی
قیادت کی حدیث: منصب چاہنے سے بہتر احتیاط
صحیح بخاری : ۳۵۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۸۸
«وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الأَمْرِ، حَتَّى يَقَعَ فِيهِ، وَالنَّاسُ مَعَادِنُ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ».
اور تم حکومت کے لیے سب سے زیادہ بہتر شخص اسے پاؤ گے جو حکومت کرنے کو برا جانے (یعنی اس منصب کو خود کے لیے ناپسند کرے) یہاں تک کہ وہ اس میں پھنس جائے۔ لوگوں کی مثال کان کی سی ہے جو جاہلیت میں شریف تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بہت سادہ انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ حکومت یا منصب کے لیے بہتر شخص وہ ہے جو خود اس منصب کو اپنے لیے پسند نہ کرے، یہاں تک کہ وہ اس ذمہ داری میں آ جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیادت کوئی کھیل یا شہرت کا راستہ نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لوگ کان کی طرح ہیں؛ جو جاہلیت میں شریف تھے، وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں۔ یعنی انسان کے اندر موجود اچھی خصلتیں اسلام کے ساتھ بہتر رخ اختیار کر سکتی ہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع قیادت، منصب کی ذمہ داری، لوگوں کی فطرت اور شرافت ہے۔ شرح میں اسی حد تک بات رکھی گئی ہے جو متن میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منصب کو خود اپنے لیے چاہنا احتیاط طلب معاملہ ہے۔
- بہتر قیادت وہ ہے جو ذمہ داری کو بوجھ سمجھتی ہو، کھیل نہیں۔
- اچھی فطرت اسلام کے ساتھ اور بہتر بن سکتی ہے۔
