صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۵ - تنعیم سے عمرہ کرانے کا حکم

تنعیم سے عمرہ کرانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۸۵

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أُرْدِفَ عَائِشَةَ وَأُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " .

عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق روایت:

مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بٹھا کر لے جاؤں اور تنعیم سے (احرام باندھ کر) انہیں عمرہ کرا لاؤں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر لے جائیں اور تنعیم سے انہیں عمرہ کرا لائیں۔ یہ بات پچھلی روایت کے واقعہ کو مختصر انداز میں مزید صاف کر دیتی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ عمرہ کا کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہوا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کرایا گیا۔ اس حدیث میں تنعیم سے عمرہ، عمرہ کی حدیث، سواری پر بٹھانا، اور دینی کام میں مدد جیسے الفاظ فطری طور پر آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حکم کو صحابہ رضی اللہ عنہم فوراً مانتے تھے۔
  • دینی کام میں کسی کی مدد کرنا اچھی بات ہے۔
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمرہ تنعیم سے کرایا گیا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں