صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۴ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمرہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا تنعیم سے عمرہ
صحیح بخاری : ۲۹۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۸۴
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِأَجْرِ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ لَهَا : " اذْهَبِي وَلْيُرْدِفْكِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ، فَانْتَظَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ حَتَّى جَاءَتْ " .
عائشہ روایت:
انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف حج کر پائی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ (عمرہ کر آؤ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ (عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیں گے۔ چنانچہ آپ نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تنعیم سے (احرام باندھ کر) عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمرہ کرا لائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصہ میں مکہ کے بالائی علاقہ پر ان کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ وہ آ گئیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمرہ کے واقعہ کو آسان الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ صحابہ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں، جبکہ وہ صرف حج کر پائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سنی اور انہیں اجازت دی کہ وہ عمرہ کر آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا کر تنعیم لے جائیں، جہاں سے وہ عمرہ کا احرام باندھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انتظار بھی فرمایا۔ اس حدیث میں عمرہ کی حدیث، تنعیم سے عمرہ، حج اور عمرہ، اور دین میں آسانی کا واضح پہلو ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی معاملہ سمجھ نہ آئے تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف رجوع کیا گیا، یہی اچھا طریقہ ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی دلی کیفیت کا خیال فرمایا۔
- تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھنے کا واقعہ اسی حدیث میں صاف بیان ہوا ہے۔
