صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۳ - مشکل سفر میں صبر اور اللہ کا رزق
رزق کی قدر اور سفر میں صبر کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۹۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۸۳
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " خَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَأْكُلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً ، قَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَيْنَ كَانَتِ التَّمْرَةُ تَقَعُ مِنَ الرَّجُلِ ، قَالَ : لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَحْرَ ، فَإِذَا حُوتٌ قَدْ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا أَحْبَبْنَا " .
جابر روایت:
ہم (ایک غزوہ پر) نکلے۔ ہماری تعداد تین سو تھی، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آخر ہمارا توشہ جب (تقریباً) ختم ہو گیا، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی۔ ایک شاگرد نے پوچھا، اے ابوعبداللہ! (جابر رضی اللہ عنہ) ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۳ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر کی سختی، کم خوراک میں صبر، اور اللہ کے رزق کی قدر سمجھاتی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ تین سو افراد ایک غزوہ میں نکلے اور اپنا راشن خود اٹھائے ہوئے تھے۔ جب توشہ کم ہو گیا تو ہر آدمی کو دن بھر میں صرف ایک کھجور ملتی تھی۔ سننے والے نے پوچھا کہ ایک کھجور سے کیا بنتا ہو گا؟ جواب ملا کہ اس کی قدر اس وقت سمجھ آئی جب وہ بھی باقی نہ رہی۔ پھر اللہ نے دریا کے کنارے ایک بڑی مچھلی عطا فرمائی، جسے سب نے اٹھارہ دن تک پیٹ بھر کر کھایا۔ اس واقعہ میں رزق کی قدر، صبر کی حدیث، سفر کی مشقت، اور نعمت پر شکر کا صاف پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کم نعمت بھی نعمت ہے؛ اس کی قدر اس وقت زیادہ سمجھ آتی ہے جب وہ چھن جائے۔
- سفر اور مشکل حالات میں صبر کرنا مؤمن کی اچھی عادت ہے۔
- اللہ مشکل کے بعد رزق کا ایسا راستہ بنا دیتا ہے جو بندے کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
