صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۹ - دو کالی چیزیں، کھجور اور پانی
دو کالی چیزیں: کھجور اور پانی پر صبر کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ ابْنَ أُخْتِي : " إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ " ، فَقُلْتُ : مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ ? قَالَتْ : " الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُمْ مَنَائِحُ ، وَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْيَاتِهِمْ فَيَسْقِينَاهُ " .
عائشہ روایت:
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یزید بن رومان نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا` انہوں نے عروہ سے کہا، بیٹے! ہم دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی بیویوں) کے گھروں میں چولھا نہیں جلتا تھا۔میں نے پوچھا پھر آپ لوگ زندہ کس چیز پر رہتی تھیں؟ بتلایا کہ صرف دو کالی چیزوں پر، کھجور اور پانی۔ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے یہاں دودھیل اونٹنیاں تھیں وہ اپنے گھروں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ بھیج دیتے اور آپ ہمیں وہی دودھ پلا دیتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا عروہ سے فرماتی ہیں کہ ہم دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چولھا نہیں جلتا تھا۔ عروہ نے پوچھا کہ پھر آپ لوگ کس چیز پر زندہ رہتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ دو کالی چیزوں پر، یعنی کھجور اور پانی۔ پھر بتایا کہ کچھ انصاری پڑوسیوں کے پاس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ بھیج دیتے اور آپ انہیں وہ دودھ پلا دیتے۔ یہ حدیث صبر، قناعت اور پڑوسیوں کے تعاون کا سبق دیتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نبوی گھرانے نے تنگی میں بھی زندگی گزاری، اور جو کچھ آتا تھا وہ اہل خانہ تک پہنچتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے گھروں میں کئی دن چولھا نہ جلنے کا ذکر ہے۔
- کھجور اور پانی پر گزارا کیا جاتا تھا۔
- پڑوسیوں کا تعاون بھی اس حدیث میں نظر آتا ہے۔
- تنگی میں صبر اور موجود نعمت پر شکر اہم ہے۔
