صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۰ - بقدر ضرورت رزق کی دعا
بقدر ضرورت رزق کی دعا: اللهم ارزق آل محمد قوتا
صحیح بخاری : ۶۴۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۶۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْ آلَ مُحَمَّدٍ قُوتًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم ارزق آل محمد قوتا» ”اے اللہ! آل محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ زندہ رہ سکیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بیان ہوئی ہے: اے اللہ! آل محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ زندہ رہ سکیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع رزق اور قناعت ہے۔ دعا کے الفاظ بہت سادہ ہیں۔ اس میں دنیا کی کثرت، ذخیرہ اور عیش کی طلب نہیں، بلکہ اتنی روزی کی دعا ہے جو زندگی کے لیے کافی ہو۔ یہ انسان کو اپنی دعاؤں کے انداز پر غور کراتی ہے۔ رزق مانگنا درست ہے، مگر اس حدیث میں بقدر ضرورت رزق کی بڑی خوبصورت مثال ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ رزق میں اصل اہم بات کفایت، شکر اور اللہ سے مانگنا ہے۔ انسان کو دنیاوی خواہشات کی لمبی فہرست کے ساتھ ساتھ ضرورت کی سادگی بھی سمجھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آل محمد کے لیے بقدر ضرورت رزق کی دعا کی۔
- رزق اللہ سے مانگنا چاہیے۔
- کفایت والی زندگی بھی ایک نعمت ہے۔
- دنیاوی کثرت کو ہر دعا کا مرکز نہیں بنانا چاہیے۔
