صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۸ - کھجور اور پانی پر گزارا
کھجور اور پانی پر گزارا: قناعت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا نُوقِدُ فِيهِ نَارًا ، إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللُّحَيْمِ " .
عائشہ روایت:
ہمارے اوپر ایسا مہینہ بھی گزر جاتا تھا کہ چولھا نہیں جلتا تھا، صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا، ہاں اگر کبھی کسی جگہ سے کچھ تھوڑا سا گوشت آ جاتا تو اس کو بھی کھا لیتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارے اوپر ایسا مہینہ بھی گزر جاتا تھا کہ چولھا نہیں جلتا تھا۔ کھانے کے لیے اصل چیز کھجور اور پانی ہوتی تھی، ہاں کبھی کہیں سے تھوڑا سا گوشت آ جاتا تو وہ بھی کھا لیتے۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی سادہ زندگی کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں بھوک یا کمی کو چھپایا نہیں گیا، بلکہ حقیقت بتائی گئی ہے۔ حدیث کا پیغام قناعت، صبر اور نعمت کی قدر ہے۔ آج معمولی سہولت نہ ملے تو بے چینی بڑھ جاتی ہے، مگر یہ حدیث بتاتی ہے کہ بہترین گھر میں بھی کئی بار بہت سادہ خوراک پر گزارا ہوتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر میں مہینہ بھر چولھا نہ جلنے کا واقعہ بیان ہوا۔
- کھجور اور پانی پر بھی گزارا کیا گیا۔
- تھوڑی نعمت کی قدر کرنا ضروری ہے۔
- سادہ زندگی میں صبر اور شکر دونوں شامل ہیں۔
