صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۷ - پتلی روٹی اور نبوی سادگی

نبوی سادگی کی حدیث: پتلی روٹی اور بھنی بکری کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۷

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ ، وَقَالَ : " كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ ، وَلَا رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ " .

قتادہ روایت:

ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے، ان کا نان بائی وہیں موجود ہوتا (جو روٹیاں پکا پکا کر دیتا جاتا) انس رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہتے کہ کھاؤ، میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتلی روٹی کھاتے نہیں دیکھا اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے سموچی بھنی ہوئی بکری دیکھی۔ یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں قتادہ بیان کرتے ہیں کہ وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے تھے اور ان کا نان بائی موجود ہوتا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہتے کہ کھاؤ، پھر فرماتے کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک کبھی پتلی روٹی دیکھی ہو، اور نہ کبھی اپنی آنکھ سے پوری بھنی ہوئی بکری دیکھی۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوراک اور زندگی کی سادگی کو بیان کرتی ہے۔ اس میں کھانے کی دو خاص چیزوں کا ذکر ہے جو آپ کی زندگی میں معمول نہیں تھیں۔ سبق یہ ہے کہ کھانا زندگی کی ضرورت ہے، مگر اسے تکلف اور دکھاوے کا مرکز نہیں بنانا چاہیے۔ سادہ زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں نظر آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی خوراک میں سادگی غالب تھی۔
  • پتلی روٹی اور پوری بھنی بکری جیسی چیزیں معمول نہیں تھیں۔
  • کھانے میں تکلف کو ضروری نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • انس رضی اللہ عنہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں