صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کا سادہ بستر
نبی صلى الله عليه وسلم کا سادہ بستر: نبوی سادگی کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۶
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ وَحَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ یہ بہت مختصر حدیث ہے، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی کو صاف دکھاتی ہے۔ اس میں آرام کی چیز کا ذکر ہے، مگر وہ بھی سادہ اور معمولی تھی۔ حدیث کا موضوع سادہ بستر اور نبوی سادگی ہے۔ اس سے یہ نہیں کہا جا رہا کہ اچھا بستر رکھنا منع ہے، بلکہ حدیث صرف یہ بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی میں تکلف نہیں تھا۔ انسان کو اپنی ضرورت، آرام اور خواہش کے فرق کو سمجھنا چاہیے۔ سادگی دل کو دنیا کی غیر ضروری چاہتوں سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کا بستر بہت سادہ تھا۔
- آرام کی چیزوں میں بھی تکلف ضروری نہیں۔
- سادگی انسان کو ضرورت اور خواہش کا فرق سمجھاتی ہے۔
- دنیاوی سہولت کو زندگی کا اصل مقصد نہیں بنانا چاہیے۔
