صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۵ - کھجور اور سادہ خوراک

کھجور اور سادہ خوراک کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر کا معمول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۵

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ الْأَزْرَقُ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ هِلَالٍ الْوَزَّانِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا أَكَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْلَتَيْنِ فِي يَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاهُمَا تَمْرٌ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانہ نے اگر کبھی ایک دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا تو ضرور اس میں ایک وقت صرف کھجوریں ہوتی تھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے نے اگر کبھی ایک دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا تو ان میں سے ایک وقت صرف کھجوریں ہوتی تھیں۔ اس حدیث کا موضوع سادہ خوراک اور قناعت ہے۔ یہاں گھر کے کھانے کا ایک مختصر مگر گہرا بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں تنوع اور کثرت ہر وقت موجود نہیں تھی۔ کھجور جیسی سادہ چیز بھی کھانے کا حصہ بنتی تھی۔ یہ حدیث ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں سادگی کا احساس دلاتی ہے۔ رزق کی قدر اسی وقت بڑھتی ہے جب انسان یہ سمجھے کہ نعمت کا معیار صرف مہنگا یا خاص کھانا نہیں۔ سادہ کھانا بھی اللہ کی نعمت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر میں خوراک سادہ ہوتی تھی۔
  • کھجور بھی ایک وقت کے کھانے کے طور پر کافی ہوتی تھی۔
  • کھانے میں کثرت کو ضروری معیار نہیں بنانا چاہیے۔
  • سادہ رزق پر شکر کرنا بہتر رویہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں