صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۴ - آل محمد صلى الله عليه وسلم کی سادہ زندگی
آل محمد صلى الله عليه وسلم کی سادہ زندگی: گندم کی روٹی والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۵۴
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ " .
عائشہ روایت:
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو مدینہ آنے کے بعد کبھی تین دن تک برابر گیہوں کی روٹی کھانے کے لیے نہیں ملی، یہاں تک کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہو گئی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو مدینہ آنے کے بعد کبھی تین دن لگاتار گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر کھانے کو نہیں ملی، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہو گئی۔ یہ حدیث نبوی گھرانے کی سادہ زندگی کا واضح بیان ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، صرف ایک حقیقت بیان کی گئی ہے کہ گھر میں کھانے کی فراوانی معمول نہیں تھی۔ یہ بات انسان کو اپنی نعمتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ آج معمولی کمی پر شکایت بڑھ جاتی ہے، مگر یہ حدیث بتاتی ہے کہ سب سے افضل گھرانے نے بھی دنیاوی آسانی کو مقصد نہیں بنایا۔ اصل سبق قناعت، صبر اور نعمت کی قدر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آل محمد صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں کھانے کی فراوانی معمول نہیں تھی۔
- مسلسل آسائش نہ ہونا دینی شان کے خلاف نہیں۔
- نعمت ملنے پر اس کی قدر کرنی چاہیے۔
- قناعت اور صبر سادہ زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
