صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۸ - فتح مکہ اور کعبہ میں نماز
فتح مکہ کے دن کعبہ میں نماز کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۹۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۸۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ يُونُسُ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُرْدِفًا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَمَعَهُ بِلَالٌ ، وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ حَتَّى أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ بِمِفْتَاحِ الْبَيْتِ فَفَتَحَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ فَمَكَثَ فِيهَا نَهَارًا طَوِيلًا ، ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَبَقَ النَّاسُ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَوَجَدَ بِلَالًا وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا ، فَسَأَلَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى مِنْ سَجْدَةٍ ؟ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا دیا تھا اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد الحرام میں اپنی سواری بٹھا دی اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بیت اللہ الحرام کی کنجی لائیں۔انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک اندر ٹھہرے رہے۔ اور جب باہر تشریف لائے تو صحابہ نے (اندر جانے کے لیے) ایک دوسرے سے آگے ہونے کی کوشش کی سب سے پہلے اندر داخل ہونے والے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث فتح مکہ کے ایک اہم واقعہ کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقے سے تشریف لائے، اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کی سواری پر پیچھے تھے، اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی کنجی منگوائی، دروازہ کھلوایا، اور کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔ بعد میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی؟ انہوں نے جگہ بتا دی۔ حدیث کا اصل مرکز فتح مکہ، کعبہ میں نماز، بیت اللہ کی کنجی، اور نبی صلى الله عليه وسلم کا کعبہ میں داخل ہونا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتح مکہ کے دن نبی کریم صلى الله عليه وسلم کعبہ میں داخل ہوئے۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کی جگہ جاننے کی کوشش کی۔
- بلال رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ بتائی جہاں نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز پڑھی تھی۔
