صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۷ - سواری پر ساتھ بٹھانے کا بیان
نبی صلى الله عليه وسلم کا سواری پر اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھانا
صحیح بخاری : ۲۹۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۸۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَرَاءَهُ " .
اسامہ بن زید روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر اس کی پالان رکھ کر سوار ہوئے۔ جس پر ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث سادگی اور محبت بھرا ایک واقعہ بیان کرتی ہے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے، اس پر پالان تھا اور ایک چادر بچھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ حدیث کا اصل موضوع سواری پر پیچھے بٹھانا ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ سواری، اسامہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ، اور سفر میں دوسروں کو ساتھ بٹھانے کا ذکر آتا ہے۔ سواری کی حدیث، ارداف کی حدیث، نبی صلى الله عليه وسلم کی سادگی، اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جیسے الفاظ اس روایت سے فطری طور پر جڑتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سادہ سواری استعمال فرمائی۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا۔
- حدیث میں سواری کے معاملے میں آسانی اور سادگی کا واقعہ آتا ہے۔
