صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۳ - بلندی پر تکبیر اور اترتے وقت تسبیح
بلندی پر اللہ اکبر اور اترتے وقت سبحان اللہ
صحیح بخاری : ۲۹۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۹۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو «الله اكبر» کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۳ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر کے ذکر کا ایک سادہ اور یاد رکھنے میں آسان طریقہ بتاتی ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے۔ حدیث بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے لمبی باتیں نکالنے کے بجائے اسی اصل پیغام کو سمجھنا چاہیے۔ سفر میں ذکر، بلندی پر تکبیر، اترتے وقت تسبیح، اللہ اکبر، اور سبحان اللہ اس روایت کے بنیادی الفاظ ہیں۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ سفر کے معمولی لمحوں میں بھی زبان کو اللہ کے ذکر سے جوڑا جا سکتا ہے، مگر بات وہی رہے جو حدیث میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بلندی پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہا جاتا تھا۔
- نیچے اترتے وقت سبحان اللہ کہا جاتا تھا۔
- سفر کے مختلف مرحلوں میں اللہ کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
