صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۴ - چڑھائی پر تکبیر اور اترائی پر تسبیح

سفر میں چڑھائی اور اترائی کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۹۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا تَصَوَّبْنَا سَبَّحْنَا " .

جابر روایت:

جب ہم بلندی پر چڑھتے تو «الله اكبر» کہتے اور نشیب میں اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۹۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب اترتے تو سبحان اللہ کہتے۔ یہ روایت پچھلی روایت کے مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں کوئی لمبی دعا نہیں، بلکہ دو مختصر ذکر ہیں: اللہ اکبر اور سبحان اللہ۔ یہی اس حدیث کا اصل سبق ہے۔ سفر میں تکبیر، سفر میں تسبیح، چڑھائی پر اللہ اکبر، اترائی پر سبحان اللہ، اور سفر کا مسنون ذکر جیسے الفاظ اسی مضمون سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے یہ حدیث یاد رکھنا آسان ہے، کیونکہ سفر میں یہ مواقع بار بار آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چڑھائی پر تکبیر کہنا اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • اترائی کے وقت تسبیح کہنا صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل تھا۔
  • مختصر ذکر بھی سفر کو اللہ کی یاد سے جوڑ دیتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں