صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۷ - اللہ کے عذاب سے سزا نہ دو
اللہ کے عذاب سے سزا نہ دو: آگ سے جلانے کی ممانعت
صحیح بخاری : ۳۰۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۱۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَرَّقَ قَوْمًا فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ، وَلَقَتَلْتُهُمْ " ، كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
عکرمہ روایت:
علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو (جو عبداللہ بن سبا کی متبع تھی اور علی رضی اللہ عنہ کو اپنا رب کہتی تھی) جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ‘ البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۷ کا خلاصہ
اس روایت میں بیان ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو جلا دیا۔ جب یہ خبر ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب سے سزا نہ دو۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں انہیں قتل کرتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کرو۔ اللہ کے عذاب سے سزا نہ دو والی حدیث کا اصل حصہ آگ سے جلانے کی ممانعت ہے۔ دوسرا حصہ ایک سنگین شرعی جرم سے متعلق ہے۔ علمائے کرام کے مطابق ایسے احکام بااختیار شرعی حاکم اور عدالت کے دائرے میں آتے ہیں، عام افراد کے ذاتی فیصلے میں نہیں۔ اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے اپنا موقف واضح کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آگ سے جلانے کو اللہ کے عذاب سے تشبیہ دی گئی اور اس سے روکا گیا۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث کی بنیاد پر اپنی رائے بیان کی۔
- دین بدلنے کے معاملے کا ذکر ایک سنگین شرعی حکم کے طور پر آیا ہے۔
- ایسے احکام عام افراد کے ذاتی اقدام کے لیے نہیں ہوتے۔
