صحیح بخاری حدیث ۳۰۴۹ - عباس رضی اللہ عنہ اور بحرین کا مال

عباس رضی اللہ عنہ اور بحرین کا مال: سوال اور عطا کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۴۹

وَقَالَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَجَاءَهُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا ، فَقَالَ : " خُذْ فَأَعْطَاهُ فِي ثَوْبِهِ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بحرین کا خراج آیا تو عباس رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مال سے مجھے بھی دیجئیے کیونکہ (بدر کے موقع پر) میں نے اپنا اور عقیل دونوں کا فدیہ ادا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر آپ لے لیں“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے کپڑے میں نقدی کو بندھوا دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع مال کی عطا اور سابق فدیہ کا ذکر ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بحرین کا مال آیا۔ عباس رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھے بھی اس مال میں سے دیجئے، کیونکہ میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ ادا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لیجئے، پھر انہیں ان کے کپڑے میں مال بندھوا دیا گیا۔ اس حدیث میں عباس رضی اللہ عنہ کا سوال بھی ہے، فدیہ بدر کا ذکر بھی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عطا بھی ہے۔ اس سے یہ نہیں نکالا جا سکتا کہ ہر مالی دعویٰ اسی طرح قبول ہو؛ یہاں وہی بات بیان کی گئی ہے جو متن میں آئی ہے۔ عباس رضی اللہ عنہ کا فدیہ، بحرین کا مال، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت یا حق کی بات ادب سے پیش کی جا سکتی ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ کی بات سن کر انہیں مال دیا۔
  • فدیہ بدر کا واقعہ بعد کے مالی ذکر میں بھی سامنے آیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں