صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۰ - مغرب میں سورۃ الطور کی تلاوت

نماز مغرب میں سورۃ الطور: جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۵۰

حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ جَاءَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ " .

جبیر بن مطعم روایت:

´مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں محمد بن جبیر نے ‘ انہیں ان کے باپ (جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے` وہ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھی۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نماز مغرب میں قرآن کی تلاوت ہے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے سنا۔ اس روایت میں دو باتیں صاف ہیں: ایک یہ کہ راوی اس وقت بدر کے قیدیوں کے معاملے سے آئے تھے، اور دوسری یہ کہ انہوں نے نماز مغرب میں سورۃ الطور سنی۔ حدیث کا محور تلاوت ہے، نہ کہ قیدیوں کے تمام احکام۔ نماز مغرب میں سورۃ الطور، جبیر بن مطعم حدیث، اور قراءت فی المغرب جیسے الفاظ اسی روایت کے لیے تلاش کیے جاتے ہیں۔ ہمیں حدیث کے الفاظ تک محدود رہ کر بات کرنی چاہیے اور اس سے زیادہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب میں سورۃ الطور تلاوت فرمائی۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم نے سنی ہوئی بات کو امانت کے ساتھ نقل کیا۔
  • حدیث کو اسی موضوع تک رکھنا چاہیے جو متن میں بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں