صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۲ - ذمیوں کے حقوق اور عہد کی پابندی
ذمیوں کے حقوق: عہد پورا کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۰۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۵۲
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ " .
عمرو بن میمون روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے (وفات سے تھوڑی دیر پہلے) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا (ذمیوں سے) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عہد کی پابندی اور ذمیوں کے حقوق ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو عہد ذمیوں سے ہے اسے پورا کیا جائے۔ یہ بھی فرمایا کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کی جائے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اس روایت میں انصاف، ذمہ داری اور حکمرانی کا صاف سبق ہے۔ ذمیوں کے حقوق، عہد کی پاسداری، طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا، اور حکمران کی وصیت جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل موضوعات ہیں۔ حدیث ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کمزور یا معاہد قوم کے ساتھ معاملہ کرتے وقت وعدہ، حفاظت اور آسانی کو سامنے رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عہد پورا کرنا دینی اور حکومتی ذمہ داری ہے۔
- معاہد لوگوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
- حاکم کو کمزور اور معاہد لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
