صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۶ - ابن صیاد کے بارے میں تحقیق
ابن صیاد کا واقعہ: حقیقت جاننے میں احتیاط کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۰۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۵۶
قَالَ ابْنُ عُمَرَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ ، طَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، فَقَالَتْ : لِابْنِ صَيَّادٍ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک مرتبہ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تحقیق اور احتیاط ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ میں گئے جہاں ابن صیاد موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آگے بڑھے تاکہ ابن صیاد کو آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو اور آپ اس کی بات سن لیں۔ ابن صیاد چادر اوڑھے بستر پر تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اسے خبردار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے چھوڑ دیتی تو حقیقت ظاہر ہو جاتی۔ ابن صیاد کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مشتبہ معاملے میں بات کو جانچنا اور سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مشتبہ معاملے میں پہلے تحقیق کرنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقت جاننے کے لیے عملی کوشش کی۔
- کبھی کسی کی مداخلت سے معاملہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو پاتا۔
