صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۷ - دجال کانا ہوگا، اللہ پاک نہیں
دجال کی نشانی: دجال کانا ہوگا اور اللہ پاک نہیں
صحیح بخاری : ۳۰۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۵۷
وَقَالَ سَالِمٌ : قَالَ : ابْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا ‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی ‘ جو اس کی شان کے لائق تھی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا ‘ اور فرمایا کہ میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے) ڈراتا ہوں ‘ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو ‘ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی ‘ اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع دجال سے خبردار کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کی جو اس کی شان کے لائق تھی، پھر دجال کا ذکر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو ڈرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات بتائی جو پہلے انبیاء نے اپنی قوم سے نہیں کہی: دجال کانا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ دجال کی حدیث، دجال کانا ہوگا، اللہ کانا نہیں، اور فتنہ دجال جیسے الفاظ اسی روایت کے اصل سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث میں دجال کے بارے میں خوف دلایا گیا مگر ساتھ ہی ایک صاف نشانی بھی بتائی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دجال کا فتنہ اتنا بڑا ہے کہ انبیاء نے اپنی قوموں کو اس سے ڈرایا۔
- دجال کی ایک نشانی یہ بیان ہوئی کہ وہ کانا ہوگا۔
- اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے، اس لیے دجال کو رب نہیں مانا جا سکتا۔
