صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۳ - غزوہ موتہ کے شہداء اور قیادت

غزوہ موتہ کی حدیث: شہادت، قیادت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۶۳

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ عَلَيْهِ وَمَا يَسُرُّنِي أَوْ ، قَالَ : مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ، وَقَالَ : وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدینہ میں) غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ‘ (جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم (جھنڈا) زید بن حارثہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کر دیا گیا، پھر جعفر نے عَلم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے عَلم تھاما ‘ یہ بھی شہید کر دیئے گئے۔آخر خالد بن ولید نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی عَلم اٹھا لیا ہے۔ اور ان کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گئی ‘ اور میرے لیے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ (شہداء) ہمارے پاس زندہ ہوتے۔ (کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں) اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۳ کا خلاصہ

یہ حدیث غزوہ موتہ کی حدیث کے اہم واقعے کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ اسلامی جھنڈا پہلے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سنبھالا اور وہ شہید ہوئے، پھر جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا اور وہ بھی شہید ہوئے، پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اٹھایا اور وہ بھی شہید ہوئے۔ اس کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کسی مقررہ حکم کے بغیر جھنڈا سنبھالا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دی۔ اس حدیث میں شہادت کی فضیلت، میدان جنگ میں قیادت، ذمہ داری اٹھانے کا جذبہ، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی نرم دلی ایک ساتھ نظر آتی ہے، کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میدان میں ذمہ داری آئے تو اہل شخص کو ہمت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
  • شہادت پانے والوں کا مقام حدیث کے الفاظ سے بہت بلند معلوم ہوتا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم اپنے صحابہ کے دکھ اور جدائی پر غم محسوس فرماتے تھے۔
  • قیادت صرف منصب نہیں، وقت پر امانت اٹھانے کا نام بھی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں