صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۷ - زید جعفر ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت
غزوہ موتہ کی خبر: زید، جعفر، ابن رواحہ اور خالد رضی اللہ عنہم
صحیح بخاری : ۳۷۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵۷
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا , وَجَعْفَرًا , وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ ، فَقَالَ : " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم کو زید (رضی اللہ عنہ) لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کر دیئے گئے، اب جعفر (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، اب ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے عَلم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۷ کا خلاصہ
یہ حدیث شہادت، قیادت اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی شفقت کو بیان کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خبر آنے سے پہلے ہی صحابہ کو زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت بتا دی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پہلے زید رضی اللہ عنہ نے علم اٹھایا اور شہید ہوئے، پھر جعفر رضی اللہ عنہ نے اٹھایا اور شہید ہوئے، پھر ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اٹھایا اور شہید ہوئے۔ اس وقت نبی صلى الله عليه وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے علم اٹھایا، یعنی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دی۔ حدیث میں بہادری بھی ہے، رنج بھی ہے اور اللہ کی مدد کا ذکر بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے کام میں ذمہ داری ایک کے بعد ایک اہل شخص سنبھال سکتا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم شہداء کے ذکر پر غم اور شفقت کا اظہار فرماتے تھے۔
- خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اللہ کی تلوار کہا گیا۔
- فتح اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اسباب بندوں کے ذریعے بنتے ہیں۔
