صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۶ - ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے حکمت کی دعا
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے دعا: اے اللہ اسے حکمت سکھا
صحیح بخاری : ۳۷۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ " . حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، وَقَالَ : " عَلِّمْهُ الْكِتَابَ " ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ خَالِدٍ مِثْلَهُ .
ابن عباس روایت:
مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا ”اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۶ کا خلاصہ
یہ حدیث علم، حکمت اور دعا کی اہمیت بتاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا: اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔ روایت کے دوسرے لفظ میں کتاب کا علم سکھانے کی دعا بھی آئی ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا ہے۔ یہاں علم صرف معلومات نہیں، بلکہ حکمت کے ساتھ سمجھنے کی دعا ہے۔ علم کی حدیث، حکمت کی دعا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مقام کے بارے میں یہ روایت بہت اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑوں کی دعا بچوں اور طالب علموں کے لیے قیمتی سرمایہ ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم اور حکمت اللہ سے مانگنی چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے خاص دعا فرمائی۔
- بچوں اور نوجوانوں کو علم کے لیے دعا دینا اچھا عمل ہے۔
- قرآن اور حکمت کی سمجھ ایک بڑی نعمت ہے۔
