صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۵ - بلال رضی اللہ عنہ کا اللہ کے لیے عمل
بلال رضی اللہ عنہ کی اخلاص والی حدیث: اللہ کے لیے آزاد کیا گیا
صحیح بخاری : ۳۷۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵۵
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، أَنَّ بِلَالًا ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي , وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ " .
قیس روایت:
بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیجئیے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۵ کا خلاصہ
یہ حدیث اخلاص اور اللہ کے لیے عمل کرنے کی خواہش کو دکھاتی ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو اپنے پاس رکھیں، اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو مجھے آزاد کر دیں اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیں۔ اس روایت میں بلال رضی اللہ عنہ کی نیت صاف نظر آتی ہے۔ وہ اپنی آزادی کو صرف ذاتی آرام کے لیے نہیں دیکھ رہے، بلکہ اللہ کے کام کے لیے موقع سمجھ رہے ہیں۔ بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث تلاش کرنے والے یہاں اخلاص، آزادی اور دین کے لیے کام کرنے کا پیغام پاتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ نیک عمل میں نیت کی سمت بہت اہم ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے لیے کیا گیا کام اخلاص کا تقاضا کرتا ہے۔
- بلال رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں عمل کرنا چاہتے تھے۔
- آزادی کو نیکی کے موقع کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
- نیت صاف ہو تو بات اور عمل دونوں میں وزن آ جاتا ہے۔
