صحیح بخاری حدیث ۷۵ - ابن عباس کے لیے علم قرآن کی دعا
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے علم کتاب کی دعا
صحیح بخاری : ۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ " .
ابن عباس روایت:
ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (سینے سے) لگا لیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ ” اے اللہ اسے علم کتاب (قرآن) عطا فرمائیو “۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے سینے سے لگایا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اسے کتاب کا علم عطا فرما۔ یہاں کتاب سے مراد قرآن ہے، جیسا کہ ترجمہ میں بیان ہوا ہے۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، دعا اور علم قرآن کی اہمیت صاف نظر آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے خاص دعا فرمائی کہ اللہ انہیں قرآن کا علم دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم دین کے لیے دعا کرنا بھی بہت اہم ہے۔ قرآن کا علم اللہ کی عطا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ایک بڑی نعمت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم قرآن کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے دعا فرمائی۔
- علم کتاب اللہ کی عطا ہے۔
- بچوں اور کم عمر لوگوں کے لیے خیر کی دعا کرنا اچھا عمل ہے۔
