صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۸ - قرآن چار صحابہ سے سیکھو
قرآن چار صحابہ سے سیکھو: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت
صحیح بخاری : ۳۷۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵۸
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " ، قَالَ : لَا أَدْرِي بَدَأَ بِأُبَيٍّ أَوْ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ .
مسروق روایت:
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے یہاں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہی کی اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ابی بن کعب کا ذکر کیا یا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۸ کا خلاصہ
یہ حدیث تعلیم قرآن کے باب میں بہت اہم ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے سامنے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام پہلے لیا، پھر سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کا ذکر فرمایا۔ راوی کو یہ یاد نہ رہا کہ ابی کا نام پہلے آیا یا معاذ کا۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ قرآن سیکھنے کے لیے معتبر، ماہر اور نبی صلى الله عليه وسلم کے تربیت یافتہ لوگوں سے رجوع کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سیکھنے کے لیے ماہر اور معتبر اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے۔
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قرآن کے علم میں خاص مقام ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے اہل علم سے محبت رکھتے تھے۔
- روایت میں یادداشت کی احتیاط بھی بیان کی گئی ہے۔
