صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۹ - بہترین اخلاق والے نبی صلى الله عليه وسلم کو محبوب
حسن اخلاق کی حدیث: سب سے محبوب وہ جس کے اخلاق اچھے ہوں
صحیح بخاری : ۳۷۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵۹
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْرُوقًا ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا ، وَقَالَ : " إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا .
عبداللہ بن عمرو روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے یہ ممکن تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سب سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵۹ کا خلاصہ
یہ حدیث حسن اخلاق کی بڑی اہمیت بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا، اور نہ آپ صلى الله عليه وسلم جان بوجھ کر فحش بات کرتے تھے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں مجھے سب سے زیادہ عزیز وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ آتی ہیں: بری زبان سے بچنا اور اچھے اخلاق اختیار کرنا۔ اخلاق کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت آسان اور عملی پیغام دیتی ہے۔ اچھا مسلمان صرف عبادت میں نہیں، زبان، عادت اور لوگوں سے برتاؤ میں بھی بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بری اور فحش زبان سے بچنا نبی صلى الله عليه وسلم کے اخلاق سے سیکھا جاتا ہے۔
- اچھے اخلاق انسان کو محبوب بنا سکتے ہیں۔
- حسن اخلاق صرف بات نہیں، عادت اور رویے سے ظاہر ہوتا ہے۔
- زبان کی پاکیزگی اچھے کردار کا اہم حصہ ہے۔
