صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۹ - بہترین انسان اچھے اخلاق والا
اچھے اخلاق کی حدیث: بہترین انسان کون ہے؟
صحیح بخاری : ۶۰۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۲۹
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، سَمِعْتُ مَسْرُوقًا ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَخْيَرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا " .
مسروق روایت:
جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حسن اخلاق ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آپ نہ بدگو تھے اور نہ بدزبان۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کیا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ یہ حدیث اچھے اخلاق کی حدیث کے طور پر بہت جامع ہے۔ اس میں عبادت کی تفصیل نہیں بلکہ روزمرہ مزاج، زبان اور برتاؤ کی بات ہے۔ انسان کی بہتری صرف دعوے سے ظاہر نہیں ہوتی؛ اس کی زبان، لہجہ اور لوگوں کے ساتھ سلوک بھی اس کا پتا دیتے ہیں۔ حدیث ہمیں بدکلامی سے بچنے اور نرم، باوقار انداز اپنانے کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدگوئی اور بدزبانی اچھے اخلاق کے خلاف ہیں۔
- بہتر انسان وہ ہے جس کا لوگوں کے ساتھ اخلاق اچھا ہو۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا انداز گفتگو پاکیزہ اور شائستہ تھا۔
