صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۰ - قرآن سیکھنے کے چار معتبر صحابہ
قرآن کن صحابہ سے سیکھا جائے؟ چار ناموں والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۷۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۰
وَقَالَ : " اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " .
اور آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) سے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۰ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث تعلیم قرآن کے لیے بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو: عبداللہ بن مسعود، سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم سے۔ اس حدیث میں قرآن کے استاد کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ قرآن صرف الفاظ پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ درست قراءت اور صحیح طریقے سے سیکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے جن صحابہ کے نام لیے، وہ قرآن کے علم میں نمایاں تھے۔ آج بھی قرآن سیکھنے کی حدیث کے طور پر اس روایت کا پیغام یہی ہے کہ انسان ایسے استاد سے سیکھے جو علم، امانت اور درست نقل کے اعتبار سے قابل اعتماد ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سیکھنے کے لیے اچھے استاد کا انتخاب اہم ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے چار صحابہ کو قرآن کے باب میں خاص طور پر ذکر فرمایا۔
- علم قرآن امانت ہے، اسے معتبر طریقے سے لینا چاہیے۔
- دین کا علم اہل علم سے سیکھنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
