صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۱ - سورۃ اللیل کی قراءت اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ
سورۃ اللیل کی قراءت: ابن ام عبد رضی اللہ عنہ سے سیکھا ہوا علم
صحیح بخاری : ۳۷۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۱
حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ دَخَلْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا , فَرَأَيْتُ شَيْخًا مُقْبِلًا فَلَمَّا دَنَا ، قُلْتُ : أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اسْتَجَابَ ، قَالَ : مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟ ، قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : أَفَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمُ الَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ؟ كَيْفَ قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَاللَّيْلِ ؟ فَقَرَأْتُ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى { 1 } وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى { 2 } سورة الليل آية 1-2 , 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 , قَالَ : أَقْرَأَنِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ إِلَى فِيَّ فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يَرُدُّونِي .
علقمہ روایت:
میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی (نیک) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں، جب وہ قریب آ گئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہو گئی ہے۔انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے یہاں «صاحب النعلين والوساد والمطهرة» (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے (اللہ کی) پناہ مل چکی ہے۔ (یعنی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما) کیا تمہارے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا (پھر دریافت فرمایا) ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) آیت «والليل» کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟میں نے عرض کیا کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث نیک صحبت، علم قرآن اور سنی ہوئی قراءت کی حفاظت کا سبق دیتی ہے۔ علقمہ شام پہنچے تو دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی کہ اے اللہ! مجھے نیک ساتھی عطا فرما۔ پھر ایک بزرگ آئے اور بات چیت شروع ہوئی۔ انہوں نے کوفہ کے صحابہ کا ذکر کیا، خاص طور پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ ابن ام عبد سورۃ اللیل کیسے پڑھتے ہیں؟ علقمہ نے والليل إذا يغشى، والنهار إذا تجلى، والذكر والأنثى پڑھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مجھے بھی اسی طرح اپنی زبان سے پڑھایا تھا، مگر شام والے مجھے اس قراءت سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک ساتھی علم اور دین کے سفر میں مددگار ہوتا ہے۔
- قرآن کی قراءت میں استاد اور سند کی اہمیت ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم سے سنے ہوئے الفاظ کو محفوظ رکھتے تھے۔
- علمی دباؤ کے باوجود سنی ہوئی بات کو احتیاط سے یاد رکھنا چاہیے۔
