صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۲ - ابن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کے قریب
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سیرت: نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کے قریب ترین صحابی
صحیح بخاری : ۳۷۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۲
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ ، عَنْ رَجُلٍ قَرِيبِ السَّمْتِ وَالْهَدْيِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " مَا أَعْرِفُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " .
عبدالرحمٰن بن زید روایت:
ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ` صحابہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عادات و اخلاق اور طور طریق میں سب سے زیادہ قریب کون سے صحابی تھے؟ تاکہ ہم ان سے سیکھیں، انہوں نے کہا اخلاق، طور طریق اور سیرت و عادت میں ابن ام عبد سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور کسی کو میں نہیں سمجھتا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۲ کا خلاصہ
یہ حدیث اتباع سنت اور اچھے نمونے کی تلاش کا سبق دیتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صحابہ میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اخلاق، طور طریق اور سیرت کے زیادہ قریب کون ہیں تاکہ ہم ان سے سیکھیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں ابن ام عبد یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو نبی صلى الله عليه وسلم کے سَمْت، ہدی اور دَلّ کے قریب نہیں جانتا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ دین سیکھنے والا اچھے نمونے کی تلاش کرتا ہے۔ صرف باتیں کافی نہیں، بلکہ چال چلن، عادت اور طرز زندگی بھی سیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین سیکھنے کے لیے اچھے عملی نمونے کو دیکھنا مفید ہے۔
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے سے خاص قرب بیان ہوا ہے۔
- اخلاق، عادت اور طرز عمل بھی علم کا حصہ ہیں۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے کو اپنانے کے لیے ایک دوسرے سے سیکھتے تھے۔
