صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۳ - عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قربت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر سے قربت
صحیح بخاری : ۳۷۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكُثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
اسود بن یزید روایت:
میں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے گھر سے ان کی خاص قربت ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ یمن سے مدینہ آئے۔ کچھ عرصہ تک وہ یہ سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کے گھرانے ہی کے فرد ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ کو نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر بار بار آتے جاتے دیکھتے تھے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے مقام کو اپنے مشاہدے سے پہچانتے تھے۔ حدیث ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مقام، نبی صلى الله عليه وسلم سے قربت، اور اہل علم صحابہ کی عزت سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر آنے جانے کی خاص قربت حاصل تھی۔
- صحابہ کرام ایک دوسرے کے مقام کو احترام کے ساتھ بیان کرتے تھے۔
- کسی شخص کی نیکی اور قربت کبھی اس کے عمل اور صحبت سے پہچانی جاتی ہے۔
- اہل علم اور قریبی صحابہ کی عزت کرنا دینی ادب کا حصہ ہے۔
