صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۴ - ایک رکعت وتر کا بیان

ایک رکعت وتر کی حدیث اور صحابی کے عمل کا احترام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۴

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : " أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ " فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : " دَعْهُ فَإِنَّهُ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

ابن ابی ملیکہ روایت:

معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ (کریب) بھی موجود تھے، جب وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا) اس پر انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں وتر کی نماز کا ایک اہم پہلو بیان ہوا ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ وہاں موجود تھے، پھر انہوں نے یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ کوئی حرج نہیں، کیونکہ معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صحبت پا چکے ہیں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ صحابی کے عمل کو فوراً غلط کہنے کے بجائے ان کے علم اور صحبت نبوی کو سامنے رکھا گیا۔ ایک رکعت وتر، وتر کی نماز، اور صحابہ کے فقہی فہم کے بارے میں یہ حدیث نرم اور محتاط انداز سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وتر کے مسئلے میں صحابہ کے عمل کو سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔
  • علمی اختلاف میں جلدی سے اعتراض کرنا مناسب نہیں۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صحبت پانے والے صحابہ کا دینی مقام بلند ہے۔
  • فقہی باتوں میں اہل علم سے رجوع کرنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں