صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۵ - معاویہ رضی اللہ عنہ کا فقہی مقام
وتر کی ایک رکعت اور معاویہ رضی اللہ عنہ کا فہم دین
صحیح بخاری : ۳۷۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۵
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ ، قَالَ : إِنَّهُ فَقِيهٌ " .
ابن ابی ملیکہ روایت:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ انہوں نے وتر صرف ایک رکعت پڑھا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بہت مختصر مگر معنی خیز جواب دیا کہ وہ فقیہ ہیں۔ اس جملے میں صحابی کے علم، سمجھ اور دینی فہم کا اعتراف ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہر شخص اپنی طرف سے کوئی بھی عمل کر لے، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ جب کوئی صحابی، جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صحبت پا چکا ہو، کسی مسئلے میں عمل کرے تو اس کے علم کو وزن دیا جاتا ہے۔ ایک رکعت وتر، وتر کا مسئلہ، اور صحابہ کا فہم اس روایت کا مرکزی موضوع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلے میں اہل علم صحابہ کے فہم کو اہمیت دی جاتی ہے۔
- کسی عمل پر اعتراض سے پہلے اس کے علمی پس منظر کو سمجھنا چاہیے۔
- وتر کی نماز کے بارے میں صحابہ سے رہنمائی ملتی ہے۔
- مختصر جواب بھی کبھی بڑے علمی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
