صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۶ - عصر کے بعد دو رکعت کا حکم
عصر کے بعد دو رکعت نماز کی ممانعت والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۷۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۶۶
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا " , يَعْنِي : الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
حمران بن ابان روایت:
معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم لوگ ایک خاص نماز پڑھتے ہو، ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعت نماز سے تھی (جسے اس زمانے میں بعض لوگ پڑھتے تھے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ تم ایک ایسی نماز پڑھتے ہو جسے ہم نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی صحبت میں رہتے ہوئے آپ کو پڑھتے نہیں دیکھا۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا۔ راوی نے واضح کیا کہ اس سے مراد عصر کے بعد دو رکعت نماز تھی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز کے اوقات اور نفل نماز کی احتیاط ہے۔ یہاں بات صرف اسی خاص نماز کے بارے میں ہے جس کا ذکر متن میں آیا ہے۔ اس لیے اس روایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عبادت میں صرف شوق کافی نہیں، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی اور منع کیے گئے اوقات کا خیال بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت میں نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کو اصل معیار بنانا چاہیے۔
- عصر کے بعد دو رکعت کے بارے میں اس حدیث میں ممانعت آئی ہے۔
- صحابہ کرام غلط سمجھے جانے والے عمل پر نرمی سے اصلاح کرتے تھے۔
- نماز کے اوقات کا علم عبادت کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
