صحیح بخاری حدیث ۵۸۶ - فجر و عصر کے بعد نماز نہ پڑھنے کا حکم
فجر اور عصر کے بعد نماز کی ممانعت: ابو سعید خدری کی روایت
صحیح بخاری : ۵۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " .
ابو سعید خدری روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز سورج کے بلند ہونے تک نہ پڑھی جائے، اسی طرح عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۶ کا خلاصہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے، اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔ یہ روایت منع شدہ اوقات نماز کے مسئلے کو بہت سیدھا کر دیتی ہے۔ جو لوگ فجر کے بعد نفل نماز یا عصر کے بعد نفل نماز کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، ان کے لیے اس حدیث میں بنیادی جواب موجود ہے۔ یہاں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ نماز صرف پڑھنا ہی کافی نہیں، بلکہ اسے اس وقت پڑھنا بھی ضروری ہے جس کی اجازت شریعت نے دی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک نماز سے منع کیا گیا ہے۔
- عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز نہ پڑھنے کی ہدایت ہے۔
- حدیث میں دونوں وقتوں کی حد صاف بیان ہوئی ہے۔
- نماز کا صحیح وقت جاننا عمل کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
