صحیح بخاری حدیث ۵۸۵ - طلوع اور غروب پر نماز کا انتظار نہ کرو
سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نماز نہ پڑھنے کی رہنمائی
صحیح بخاری : ۵۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی تم میں سے انتظار میں نہ بیٹھا رہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی نماز کے لیے کھڑا ہو جائے، اسی طرح سورج کے ڈوبنے کے انتظار میں بھی نہ رہنا چاہیے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس انتظار میں نہ بیٹھا رہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی نماز کے لیے کھڑا ہو جائے، اور اسی طرح سورج کے ڈوبنے کے انتظار میں بھی نہ رہے۔ یہ بات بہت آسان ہے مگر روزمرہ زندگی میں اہم ہے۔ کبھی انسان نفل نماز یا عبادت کے جوش میں وقت کو نظر انداز کر دیتا ہے، حالانکہ حدیث بتاتی ہے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے عین وقت نماز کو نشانہ بنانا درست نہیں۔ اس لیے نماز کے اوقات میں احتیاط، خاص طور پر طلوع و غروب کے وقت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج نکلتے ہی نماز شروع کرنے کے انتظار سے منع کیا گیا ہے۔
- سورج ڈوبتے وقت نماز کے لیے بیٹھ کر انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
- عبادت میں وقت کی حد کو سمجھنا ضروری ہے۔
- نفل نماز میں بھی نبوی طریقہ مقدم ہے۔
