صحیح مسلم حدیث ۸۲۵ - مسلمان نجس نہیں ہوتا
مسلمان نجس نہیں ہوتا: جنابت کی آسان فہم حدیث
صحیح مسلم : ۸۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲۵
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَحَادَ عَنْهُ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : كُنْتُ جُنُبًا ، قَالَ : إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ " .
حذیفہ روایت:
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ملے اور وہ جنبی تھے تو وہ الگ سرکے پھر غسل کیا اور آئے اور کہا کہ میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان نجس نہیں ہوتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ان سے ملے جبکہ وہ جنبی تھے۔ وہ الگ ہو گئے، پھر غسل کیا اور واپس آ کر عرض کیا کہ میں جنبی تھا۔ اس پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا۔ اس حدیث میں جنابت اور نجاست کے فرق کو بہت صاف الفاظ میں سمجھایا گیا ہے۔ جنابت ایسی حالت ہے جس کے بعد غسل کیا جاتا ہے، لیکن اس سے مسلمان کا بدن ایسا نجس نہیں ہو جاتا کہ اس کے قریب بیٹھنا یا ملنا غلط سمجھا جائے۔ یہ حدیث عام لوگوں کے لیے بہت مفید ہے، کیونکہ طہارت کے مسائل میں کبھی کبھی بے جا سختی یا غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے مختصر جملے میں بات واضح کر دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنابت کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان بذات خود نجس ہو گیا۔
- غسل اپنی جگہ ضروری ہے، مگر انسان کی عزت باقی رہتی ہے۔
- دینی مسئلے میں غلط فہمی ہو تو نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم سے رہنمائی لینی چاہیے۔
- پاکیزگی کے معاملے میں بے جا وسوسوں سے بچنا چاہیے۔
