صحیح مسلم حدیث ۸۲۶ - ہر وقت اللہ کا ذکر
ہر وقت اللہ کا ذکر کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۸۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲۶
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی یاد ہر وقت کرتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۸۲۶ کا خلاصہ
اس مختصر مگر بہت پیاری حدیث میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اللہ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع ذکر اللہ ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر معنی واضح ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں اللہ کی یاد مسلسل شامل تھی۔ یہاں کسی خاص ذکر، خاص الفاظ یا خاص وقت کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ہمیں اسی حد تک بات کرنی چاہیے جو متن میں آئی ہے۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بندہ اپنے دن میں اللہ کو یاد رکھے۔ چلتے پھرتے، بیٹھتے اٹھتے، مناسب حالت میں زبان اور دل کو اللہ کی یاد سے جوڑنا نبی صلى الله عليه وسلم کی پیاری عادت تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اللہ کو کثرت سے یاد کرتے تھے۔
- ذکر اللہ صرف ایک خاص وقت تک محدود نہیں تھا۔
- ہر حال میں اللہ کی یاد بندے کو اپنے رب سے جوڑے رکھتی ہے۔
- حدیث میں ذکر کے خاص الفاظ نہیں، اس لیے بات عمومی حد تک رکھی جائے۔
