صحیح مسلم حدیث ۸۲۷ - کھانے سے پہلے وضو کا مسئلہ
کھانے سے پہلے وضو لازم ہے یا نہیں؟ حدیث کی آسان وضاحت
صحیح مسلم : ۸۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ ، فَأَتَوَضَّأَ ؟ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پائخانہ سے نکلے اور کھانا لایا گیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نماز پڑھتا ہوں جو وضو کروں۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پائخانہ سے نکلے، پھر کھانا لایا گیا۔ لوگوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو وضو یاد دلایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کیا میں نماز پڑھتا ہوں جو وضو کروں؟ اس حدیث کا مرکزی موضوع کھانے سے پہلے وضو کا مسئلہ ہے۔ روایت کے الفاظ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس موقع پر وضو کو نماز کے ساتھ جوڑا گیا، کھانے کے ساتھ لازم نہیں کیا گیا۔ یہ بات صرف اسی واقعے کے اندر رہ کر سمجھنی چاہیے۔ یہاں کھانے کے آداب کی پوری تفصیل نہیں دی گئی، نہ وضو کے تمام مسائل بیان ہوئے ہیں۔ بس اتنی تعلیم واضح ہے کہ اس موقع پر نبی صلى الله عليه وسلم نے وضو کو نماز کے لیے بتایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو کو اس حدیث میں نماز کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- کھانے سے پہلے وضو کو اس واقعے میں لازم نہیں کہا گیا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم دینی آداب کا خیال رکھتے تھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے مختصر جواب سے مسئلہ واضح فرمایا۔
