صحیح بخاری حدیث ۵۸۷ - عصر کے بعد دو رکعتوں سے ممانعت
عصر کے بعد دو رکعت نماز: حضرت معاویہ کی گواہی
صحیح بخاری : ۵۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا ، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ " .
معاویہ بن ابی سفیان روایت:
تم لوگ تو ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے لیکن ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعتوں سے تھی (جسے آپ کے زمانہ میں بعض لوگ پڑھتے تھے)۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۷ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ایک ایسے عمل پر متنبہ کرتے ہیں جو وہ عصر کے بعد دو رکعتوں کی صورت میں پڑھ رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، مگر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا۔ اس حدیث میں اصل موضوع عصر کے بعد نماز کی ممانعت ہے، خاص طور پر وہ دو رکعتیں جن کا ذکر روایت میں آیا ہے۔ یہاں انداز بھی قابل غور ہے کہ صحابی نے اپنے مشاہدے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت دونوں کو بنیاد بنایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت میں وہی طریقہ اہم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد دو رکعتوں پر تنبیہ فرمائی۔
- روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کا ذکر ہے۔
- عبادت میں صحابہ کا مشاہدہ اہم رہنمائی دیتا ہے۔
- عصر کے بعد نماز کے مسئلے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
