صحیح بخاری حدیث ۵۸۸ - دو وقتوں میں نماز سے منع
دو وقت جن میں نماز سے منع کیا گیا
صحیح بخاری : ۵۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۸ کا خلاصہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے تک، اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک۔ یہ حدیث مختصر ہے مگر مسئلہ پوری وضاحت سے بتا دیتی ہے۔ اس میں لمبی بحث نہیں، صرف وقت کی حد بیان ہے۔ عام مسلمان کے لیے اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ نفل نماز پڑھتے وقت ان اوقات کا خاص خیال رکھا جائے۔ فجر کے بعد نماز کی ممانعت اور عصر کے بعد نماز کی ممانعت کے بارے میں تلاش کرنے والوں کو اس حدیث سے بنیادی اصول ملتا ہے کہ سورج کے طلوع اور غروب تک رکنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دو وقتوں میں نماز سے رکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- فجر کے بعد سورج نکلنے تک نماز نہ پڑھی جائے۔
- عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز نہ پڑھی جائے۔
- حدیث میں نماز کے وقت کی حد آسان الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
